بارداری و کوید-١٩

ڈاکٹر زرین فاطمہ کا 16 نومبر 2020 کو ترجمہ
4 اگست ، 2020 کو ماریہ روزلز گیرپ ، پی ایچ ڈی کے ذریعہ پوسٹ کیا ہوا

LinkedInڈاکٹر زرین فاطمہ نے اپنی پی۔ایچ۔ڈی مالیکیولر بیالوجی/ وائرولوجی، سی۔ای۔ایم۔بی جامعہ پنجاب لاہور سے
ماریہ روزلز گریپ ایک سائنسی مصنف ہیں جو پیٹوبیولوجی میں پی ایچ ڈی اور سالماتی وائرولوجی اور اندرونی امیونولوجی میں تحقیقی پس منظر میں ہیں۔
لنکڈ پر شیئر کریں
Responsive image

کرونا بیماری کے شروع ہوتے ہی نومبر ۲۰۱۹ میں میرا حمل ٹھہر گیا۔ جنوری ۲۰۲۰ میں جب دنیا بھر سے کرونا وائرس کے پھیلاوُ کی خبریں آرہی تھیں، تبھی الٹرا ساوُنڈ کے زریعے میرے حمل کی تصدیق ہو گئ۔ مجھے اور میرے ساتھی کو اندازہ تھا کہ ہمارے پہلے بچے کی پیدائش کیسی ہوگی لیکن ہمارا تجربہ بلکل مختلف رہا جب ۱۱ مارچ ۲۰۲۰ کو عالمی ادارہ صحت نے کرونا بیماری کو عالمی وبا قرار دے دیا

پوری دنیا کو آن لائن ہونا پڑا۔ کاروبار، اسپتال، کلینک، اور زچہ بچہ کے طریقوں کو نئے انداز میں ڈھلنا پڑا۔ اسپتال کی شخصی ملاقاتیں صرف حاملہ تک محدود ہوگیں۔ ہماری دایہ نگہداشت غیر معمولی رہی ہے اور مجھے اور میرے ساتھی کو یکساں طور پر ٹیلیفون کے زریعے اس عمل میں شامل ہونے کے مواقع فراہم کیے گیے۔ گرچہ سماجی فاصلہ کرونا کی صورتحال میں بے حد اہم ہے، لیکن اسکی وجہ سے ہمارا تجربہ پریشان کن رہا۔ خاندان سے دوری خاص طور پر ہمارے لیے بہت مشکل تھی۔ آج کل کے حالات حاملہ خواتین اور نئے والدین کے لیے مشکل ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ نہ صرف کرونا بیماری پہ تحقیق کی کمی ہے بلکہ عام فہم معلومات پر بھروسہ کرنا بھی کافی نہیں ہے۔ اسی وجہ سے میں کرونا بیماری کی معلومات کے زریعے یہ جاننے کی کوشش کرتی رہی کہ کیسے حاملہ خواتین اور نوزائدہ بچے کرونا بیماری سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس تحریر میں ان وسائل کا بھی زکر ہے جو پیدائش کے وقت والدین کے لیے کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ وہ وسائل بھی موجود ہیں جن سے پر امید والدین جسمانی اور زہنی صحت سے متعلق آگاہی حاصل کر سکتے ہیں

حمل اور نوزائیدہ بچوں میں کرونا بیماری کے خطرات

سائنسی تحقیق سے حاصل کردہ طبی اور مہماری اعدادوشمار

عالمی ادارہ صحت کی طرف سے اب تک تقریباً دس میلین تصدیق شدہ کرونا کیسیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ اب تک سائنسی جریدوں میں پانچ سو سے زائد حاملہ خواتین میں کرونا بیماری رپورٹ کی جا چکی ہے۔ فی الحال دنیا بھر سے دوسو تین سائنسی دستاویز شائع کی جا چکی ہیں۔ اب دنیا بھر سے آہستہ آہستہ حمل کے دوران کرونا بیماری کی رپورٹس آرہی ہیں اور اس سے متعلق مزید اعدادوشمار ضروری ہیں۔ اب تک حمل کے دوران تصدیق شدہ کرونا بیماری کے زیادہ تر کیسیس میں سانس میں دشواری کی معتدل علامات پائی گئ ہیں۔ جبکہ رپورٹ کیے کیسیس میں بہت کم اموات دیکھی گئی ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق حاملہ اور غیر حاملہ خواتین میں کرونا بیماری کی شدت ایک جیسی ہے۔ مزید یہ کہ تحقیق بتاتی ہے کہ حاملہ ماں سے براہراست بچے میں کرونا بیماری کی منتقلی کا خطرہ بہت کم ہے۔ اگرچہ کرونا بیماری سے متاثرہ حاملہ خواتین میں قبلازوقت پیدائش دیکھی گئی ہےلیکن زیادہ تر حمل کا نتیجہ خشکن رہا ہے۔ ان تحقیقات میں دیکھا گیا کہ حمل کے دوران حاملہ کی بری صحت کے زیادہ غیر موافق نتائج تھے

جولائی ۲۰۲۰تک ہالینڈ میں دو سو ارسٹھ حاملہ خواتین میں کرونا بیماری کی علامات ظاہر ہوئیں جو کہ ہالینڈ میں کرونا کیسیس کی کل تعداد (۵۲۴۰۴) کا 0.5% ہے۔ ان میں قبلازوقت پیدائش (36 ہفتوں سے کم) کے 13 اور محظ 2 اسقاط حمل کے کیسیس سامنے آئے۔ تاہم کسی موزائدہ بچے میں کرونا بیماری کی تشخیص نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی ہلاکت ہوئی۔ ہالینڈ کی ان حملہ خواتین میں معتدل علامات ظاہر ہوئیں جن میں سے %45.8 میں کھانسی کی شکایت، %37.6 میں بخار، اور %26.6 میں سانس میں دشواری شامل تھیں۔ ان میں سے تقریباً %10 مریضوں کو سانس لینے میں مدد فراہم کی گئی جبکہ %2 سے کم مریضوں کو انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان مریضوں میں وجائنل کلچر بھی کیا گیا اور صرف ایک کیس کرونا مثبت رہا۔ ایک چینی تحقیق کے مطابق پیدائش کے دوران ماں سے بچے میں کرونا وائرس کی منتقلی نہیں ہوتی چاہے بچہ سی-سیکشن سے پیدا ہوا یا نارمل ڈلوری سے۔ جولائی 17 تک انگلینڈ، آئرلینڈ اور ویلز میں واقع انتہائی نگہداشت کے نیشنل آڈٹ اینڈ ریسرچ سنٹر میں 13268 کرونا کے شدید بیمار مریضوں کو داخل کیا گیا۔ ان میں سے 28 حاملہ خواتین کو انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا اور 14 مریضوں کو سانس لینے میں مدد فراہم کی گئی۔

حال ہی میں امریکی سنٹرز فار ڈیزیز کنٹرول نے 12969 حاملہ خواتین میں کرونا وائرس کی تصدیق کی اور اسی سال کی جنوری 22 سے 31 جولائی تک 35 اموات کو رپورٹ کیا۔ ان تصدیقشدہ مریضوں میں %27 کو اسپتال داخل کیا گیا، تقریباً %5 کو انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا اور %2 کو وینٹیلیٹر فراہم کیے گئے۔ ان میں زیادہ تر ہسپانوی اور لاتینی یا پھر 25-34 سالہ حاملہ خواتین ہیں

آج تک شائع ہونے والے بیشتر مطالعات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حاملہ افراد کو دوسرے غیر حاملہ افراد کے مقابلے میں زیادہ خطرہ نہیں ہوسکتا ہے۔ تاہم ، سی ڈی سی کوویڈ 19 کے ایمرجنسی رسپانس کی ایک حالیہ رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ حاملہ افراد کو شدید COVID-19 بیماری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے جس کے نتیجے میں اسپتال میں داخل ہونا پڑتا ہے۔ سب سے زیادہ COVID-19 بیماری ھسپانوی اور غیر ھسپانوی سیاہ نسل کے حاملہ افراد میں پائی گئی ہے۔ امریکہ میں ہسپانوی اور سیاہ فام افراد کے لیے ناقص اور غیر متناسب طبی نگہداشت میسر ہے۔ لیکن یہ ہتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ یہ عوامل ان لوگوں میں شدید کرونا بیماری کا بائث ہیں۔ یہ نتیجہ اخذ کرنا بھی مشکل ہے کہ آیا یہ رپورٹ دنیا بھر کے دوسرے ممالک میں بھی لاگو ہوتی ہے

برطانیہ کے وضع حمل کے سرویلنس سسٹم کے مطابق 427 کرونا وائرس تصدیق شدہ حاملہ خواتین میں بھی سی ڈی سی کی رپورٹ ی طرح نصف سے زائد خواتین کا تعلق سیاہ فام یا کسی دوسری اقلییتی نسل سے تھا۔ اس تحقیق میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ زیادہ تر خطرے سے دوچار خواتین تیسری سہ ماہی میں تھیں ، جس سے ہاتھ کی حفظان صحت کو برقرار رکھنے ، ماسک پہننے اور جسمانی فاصلہ برقرار رکھنے کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ اب کینیڈا میں ایسی ریسرچ کے نتائج دیکھنا دلچسپ ہو گا لیکن ایسی رپورٹس ابھی شائع نہیں کی گئی ہیں۔ ان تمام رپورٹس کے عداد و شمار پوری آبادی کا عائنہ دار معلوم ہوتے ہیں۔ امریکہ کے علاوہ دوسرے ممالک کی حاملہ کو انتہائی نگہداشت یا سانس لینے میں مکمل مدد کی ضرورت پیش نہیں آئی جو کہ صحت کی رسائی کے اقدام کا اشارہ ہے۔

کینیڈا سے اکٹھے کیے گئی عداد و شمار

کینیڈا میں 2003 کی سارس کی وباء کو مدِنظر رکھتے ہوئے حمل کے دوران دوسرے کرونا وائرس کے بارے میں معلومات موجود ہیں لیکن حاملہ میں کووِڈ۔19 کی وباء کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ ماہرِ زچہ و بچہ ڈاکٹر ڈیبورا منی نے اس صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے مذید معلومات اکٹھی کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ آپ ایس او جی سی کی رکن ہوتے ہوئے محقیقین اور صحت کے ماہرین کی ٹیم کی قیادت کر رہی ہیں جو کہ کووِڈ-19 سے متاثرہ والدین اور انکے نوزائیدہ بچوں سے متعلق معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔ اس سے حاصل شدہ عدادو شمار حاملہ افراد اور نئے والدین کے لیے کرونا بیماری سے آگاہی اور نمٹنے کے کام آئے گا

یہ ڈاکٹروں، نرسوں، دائیوں، اور محقیقین کا جال پورے کینیڈا میں پھیلا ہوا ہے۔ ان سے حاصل شدہ معلومات میں کرونا بیماری سے متاثرہ حاملہ اور نوزائیدہ بچوں کی عمر شامل ہے۔ مزید یہ کہ طبی علامات، انفکشن کی شدت (جس میں اسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت بھی شامل ہے)، بیماری کی علامات، نوزائیدہ بچے کا وزن، اور دودھ پلانے کی حالت کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ کرونا بیماری سے متاثرہ والدین کے نوزائیدہ بچوں اورحاملہ کا تجربہ گاہوں میں کرونا وائرس کی موجودگی کا ٹسٹ بھی کیا جا رہا ہے۔ یہ عدادوشمار اسپتال، کلینک، اور دائیہ خانوں کے پروٹوکال کی تیاری میں کارآمد ثابت ہوں گے تاکہ حاملہ افراد کی بہتر نگہداشت میں آسانی ہو

کینیڈا کے صوبے اونٹاریو میں ان عدادوشمار کو بےٹر آوٹکم اینڈ ریجسٹری نیٹورک اکٹھا کر رہے ہیں اور 16 مئی کو ان کی طرف پہلی رپورٹ آن لائن شائع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ کے عدادوشمار 54 اسپتالوں اور 29 دائیہ خانوں سے پہلی مارچ اور 29 مئی کے دوران حاصل کیے گیے ہیں۔ اس رپورٹ میں 27 کرونا بیماری سے متاثرہ حاملہ کا انکشاف ہوا ہے۔ تاہم یہ عدادو شمار ابھی ابتدائی ہیں کیونکہ مزید ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ کچھ اسپتالوں اور دائیہ خانوں کو رپورٹنگ میں تاخیر کا سامنہ کرنا پڑا ہے، اور اس لئے مزید کیس سامنے آسکتے ہیں۔ حکومتِ کینیڈا کی تجاویز کے مطابق حفاظتی احتیاطی تدابیر کا احتمام ضروری ہے لہٰذا پر امید اور نئے والدین گھر سے باہر سودہ سلف خریدتے ہوئے، بھےڑ والی جگہوں پہ، اور ڈاکٹر کے پاس جاتے ہوئے ماسک کا استعمال اور سماجی فاصلہ برقرار رکھیں۔ براہِ کرم وباء کے دوران حاملہ افراد حکومتِ کینیڈا کی جانب سے شائع کردہ احتیاطی تدابیر کا استعمال کریں۔ اونٹاریو میں صوبائی کونسل برائے زچگی اور بچوں کی صحت نے اسپتالوں اور دائیہ خانوں کے لئے عمومی ہدایات جاری کی ہیں اور انہیں یہاں پڑھا جا سکتا ہے

مجموعی طور پر کینیڈا سے جمع ہونے والے عدادوشمار کی بنا پر یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ حاملہ خواتین کو عام آبادی کے مقابلے میں کرونا بیماری کا زیادہ خطرہ نہیں ہے، اور اس بیماری کی طبی علامات عام آبادی میں مشاہدہ کے مترادف ہے(بخار، کھانسی، سانس میں دشواری، جسم میں درد، تھکاوٹ، اور گلے کی سوزش)۔ بہر حال یہ جاننے کے لیے مزید شواہد اکھٹا کرنا باقی ہیں کہ آیا نالُکے زریعے کرونا وائرس بچے میں آسکتا ہے، دودھ پلانے کے دوران یا زچگی کے وقت۔ BORN سے اگلی آنے والی رپورٹ ان معلومات پر مزید روشنی ڈالے گی۔ اسپتالوں اور دائیہ خانوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ کرونا تصدیق شدہ اور مشتبہ مریضوں کی نگرانی جاری رکھیں، اور ڈیٹا اکٹھا کرنے میں مدد کے لیے بورن اونٹاریو سے مزئد معلومات حاصل کریں۔ ایسی تحقیقات اونٹاریو اور کینیڈا میں صحت کی دیکھ بھال کرنے والوں کو حاملہ اور نئے والدین کی دیکھ بھال کے لیے معلومات فراہم کے گی

کینیڈا میں پیدائش کے لئے ہدایات

ش کی تیاری کرنا پہلی بار بننے والے والدین کے لئے کچھ زیادہ محسوس ہو سکتی ہے۔ یقینی طور پر اس وباء کے دوران کچھ بھی ہونے کی توقع رکھنا بھی دباو بڑھا سکتا ہے۔ تاہم ، کینیڈا میں نئے والدین اطمینان کر سکتے ہیں کہ نومولود اور جنم دینے والے شخصکی صحت کو یقینی بنانے کے لئے ہر صوبے میں صوبائی کونسل برائے زچگی اور صحت کے ذریعہ متعدد ہدایات پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔ میں نےکیمبرج میموریل اسپتال اور کیمبرج دایہ خانہ کے فراہم کردہ پمفلیٹس کی مدد سے یہ معلومات مرتب کی ہیں۔ یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ کینیڈا کے مختلف صوبوں اور ان صوبوں کے مختلف اسپتالوں کے طریقہ کار میں فرق ہو سکتا ہے۔ میں اپ کو دعوت دیتی ہوں کہ مزید معلومات کےلئےآپ اپنے مقامی اسپتال کی ویب سائٹ سے ضرور رجوع کریں

اسپتال میں پیدائش

بچے کی پیدائش کا عمل شروع ہوتا ہے، آپ اپنا اسپتال لے جانے والا بیگ تیار کرتے ہیں اور اسپتال کے لئے روانہ ہو جاتے ہیں۔ جیسے ہی اپ اسپتال پہنچیں گے تو آپ اور آپ کے ساتھی کی کرونا علامات کی جانچ کی جائے گی۔ اسی طرح جب بھی آپ زچگی کے سلسلے میں صحت عامہ کے مرکز یا کلینک کا رخ کریں گے تو آپ سے درج ذیل سوالات کئے جاسکتے ہیں؛

  • کیا آپ کا کرونا ٹیسٹ مثبت ہے یا آپ کسی ایسے شخص کے ساتھ رابطے میں تو نہیں رہے جو اس مرض کا شکار ہے؟
  • گزشتہ 14 دن کے دوران کیا آپ نے کینیڈا سے باہر سفر کیا یا کسی ایسے شخص سے رابطے میں تو نہیں جس نے کینیڈا سے باہر سفر کیا ہو؟
  • کیا آپ کو گزشتہ 48 گھنٹوں میں کھانسی اور بخار تو نہیں رہا؟

بخار کے ساتھ ساتھ دیگر جسمانی علامات جن میں سانس چڑھنا شامل ہے کی جانچ بھی کی جاسکتی ہے۔ آپ کو کرونا سے متعلق دیگر علامات کے بارے میں بھی پوچھا جاسکتا ہے جیسے گلے کی سوزش ، نگلنے میں دشواری ، سر درد ، تھکاوٹ میں اضافہ، پٹھوں میں درد ، متلی ، قے ، اسہال، زچگی میں ہونے والی درد کے علاوہ پیٹ میں ہونے والی درد ، سونگھنے اور ذائقے کا ختم یا احساس کا کم ہونا ،کپکپی اور الرجی کے علاوہناک کا بہنا اور زکام شامل ہیں

کرونا علامات کی موجودگی کی صورت میں آپ کا آپ کے ساتھی کا ناک اور حلق کے ذریعے کرونا وائرس کی موجودگی کا پتہ لگایا جائے گا۔ اپستال پہنچتے ہی آپ کو مکمل جانچ پڑتال کے بعد زچگی کی جگہ تک رسائی دی جائےگی ۔ اگر آپ کا ساتھی جانچ کے عمل سے کامیابی سے گزر جاتا ہے اور کرونا علامات موجود نہیں ہے تو ، انہیں بھی آپ کے ساتھ رہنے کی اجازت ہوگی۔ پیدائشی عمل کے مرحلے پر منحصر ہے کہ آپ کو داخل کرایا جاسکتا ہے یا نہیں۔ زچگی کےابتدائی مرحلے کے دوران حاملہ خواتین کو گھر پر رہنے کی سفارش کی جاسکتی ہے

داخلے کے وقت آپ کو ذاتی سازوسامان پہننے کے لئے کہا جائے گا جن میں گائون، دستانے اور ماسک شامل ہیں۔ آپ اور آپ کے ساتھی کو متعین شدہ کمرے سے باہر جانے کی اجازت نہ ہو گی۔ کیونکہ یقینی بنایا جائے گا کہ آپ کا رابطہ محدود رہے۔ زچگی میں آسانی لانے کے لئے کمرے کے اندرونی حصے میں ہی چہل قدمی کی جا سکتی ہے۔ بھوک محسوس ہونے کی صورت میں کھانا آپ تک پہنچا دیا جائے گا۔ یہ بہتر ہو گا کہ کچھ کھانے پینے کی اشیاء گھر سے ہی اپنے اسپتال لانے والے بستے میں رکھ لی جائیں۔ داخلے کے بعد آپ کا ساتھی یا معاون زچگی اور پیدائش کے تمام عمل میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہے

زچگی کے عمل کے آغاز سے بچے کی پیدائش اور نرسنگ کے عمل کے دوران ماسک پہننا لازمی ہو گا۔ آپ کے لئے تعنیات ماہر زچہ و بچہ،دایہ اور نرسز سمیت اسپتال کا تمام عملہ ماسک اور حفاظتی سازوسامان پہنے گا۔ اگر آپ کا کرونا ٹیسٹ مثبت آتا ہے تو آپ کے بچے کا بھی نیزوفرنجل یا ایمبلکل سوئیب کی مدد سے کرونا وائرس کی موجودگی کا ٹیسٹ کیا جائے گا۔ یہ تکلیف دہ عمل آپ کے بچے کی صحت کا ضامن ہو سکتا ہے۔ آپ کا ساتھی یا معاون (پیدائش کے عمل کا ساتھی، شوہر، غیر رسمی ساتھی یا والدین) آپ کے پوسٹ پارٹم کے لئے قائم کمرے میں ساتھ رہ سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کا ساتھی جانا چاہے تو وہ اسی دن واپس نہیں آ سکتا اور پوسٹ پارٹم کے بقیہ وقت میں آپ کے ساتھی کو دن میں صرف ایک بار ہی ملاقات کی اجازت ہو گی

آخر میں ، اس صورت میں جب آپ کے نوزائیدہ بچے کو خاص نگہداشت کی ضرورت ہو ، تو آپ کے معاون فرد کو بچے سےتب تک ملنے کی اجازت ہوگی جب تک کہ بچہ پیدا کرنے والی خاتون اسپتال داخل ہے۔ تاہم ایک بار اسپتال سے فارغ ہونے کے بعد صرف والدین میں سے کسی ایک کو ہی بچے سے ملنے کی اجازت ہوگی

بچے سے ملاقات کے لئے آنے والوں کو مکمل مدت تک رہنا ہو گا کیونکہ ایک بار کمرے سے نکلنے کے بعد وہ دوبارہ اسی دن واپس نہیں آ سکتے۔ 4 سال تک کے جڑواں بچوں سے والدین سمیت دو افراد سے ملاقات کی اجازت ہوگی۔ کھانا خریدنے کے لئے نکلنا بھی کمرے سے نکلنے کے مترادف ہے۔ خاص نگہداشت یا پیڈیاٹرک یونٹ میں طویل عرصے تک قیام کرنے پر اسپتال کا عملہ آپ کو کھانا فراہم کرے گا

گھر پر پیدائش

اگر آپ گھر پر بچے کو جنم دینا چاہتے ہیں تو آپ کو تمام مناسب سازوسامان کا استعمال کرنا ہوگا جو انٹاریو ایسویشن آف مڈ وائفز نے تجویز کر رکھیں ہیں، جن میں سرجکل ماسک، دستانے اور گائون شامل ہے۔ بالکل اسپتال کی طرح دایہ کے لئےسرجکل ماسک سمیت تمام ذاتی حفاظتی سازوسامان پہننا ہو گا

دایہ کے گھر آنے سے قبل آپ سمیت تمام افراد کے لئے لازمی ہے کہ وہ کرونا کی علامات کی جانچ کریں۔ نگہداشت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر کرونا بیماری لاحق ہونے کا خدشہ ہے تو مشاورتی عمل کے بعد ہی پیدائش کی جگہ کا تعین کرنا ہوگا یعنی اگر کرونا کی علامات شدید ہیں یا پھر گھر پر حفاظتی سازوسامان موجود نہیں ہے تو اسپتال میں ہی بچے کی پیدائش تجویز کی جاسکتی ہے۔پیدائش کے وقت جنم دینے والے شخص اور اس کے ساتھی کے علاوہ خاندان کے کسی دوسرے فرد کو داخلے سے روکا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ ، معاون فرد کے علاوہ ہر ایک کو ماسک پہننے ، سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اور بار بار ہاتھ دھونے کے لئے کہا جائے گا۔ آپ کے معاون فرد یا کنبہ کے دوسرے افراد سے کہا جائے گا کہ وہ یہ یقینی بنائیں کے تمام سطحوں کو باربار جراثم کش مصنوعات سے صاف کریں

گر آپ میں کرنا بیماری کی علامات ظاہر ہوں تو آپ کی دایہ آپ کے سانس، اور ہر گھنٹے بعد آپ کے بخار کی جانچ کرے گی۔ بچے کی صحت کو بھی مسلسل ہر گھنٹے بعد دیکھا جائے گا۔ بچے کے پیدا ہونے کے بعد نیزوفرنجل یا امبلکل سوئیب کے ذریعے بچے میں وائرس کی موجودگی کا ٹیسٹ کیا جائے گا۔ بعض تحقیقات ظاہر کرتی ہیں کہ پاخانے میں بھی سارس کرونا وائرس 2 پایا جا سکتا ہے کیونکہ پیدائش کے دوران پاخانہ آنا عام ہے اور اس صورت میں پاخانہ سے منہ تک منتقلی کے خدشے کے پیش نظر پانی میں پیدائش تجویز نہیں کی جاسکتی۔ ہائیڈروتھراپی کے دوران حفاظتی سازوسامان کے مسلسل بھیگ جانے اور ضیائع کی بنا پر اس کا استعمال بھی قابل عمل نہیں۔ ان دنوں سازوسامان کی مانگ بھی بہت زیادہ ہے

کووڈ -19 کے دوران ماں کی صحت کے حوالے سے اضافی معلومات

پر امید والدین کے لئے اس تحریر میں دی گئی معلومات کے علاوہ اضافی معلومات درج ذیل ہیں۔


تحریر: ماریہ روزیلس گرپے، پی۔ایچ۔ڈیڈاکٹر ماریہ روزیلس ایک سائنسی لکھاری ہیں۔ آپ نے پیتھو بیالوجی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور آپکی تحقیق مالیکیولر وائرالوجی اور اندرونی مدافعت پہ ہے۔ آپ نے پی-ایچ-ڈی ڈاکٹر سارہ ووٹن کی نگرانی میں جامعہ گیلف سے مکمل کی۔ آپکا ماسٹر مائکروبیالوجی اور امیونوجی ڈاکٹر مارک آندرے لینگلوئی کی زیرِنگرانی جامعہ آٹوا سے ہے۔ اپنی ریسرچ میں آپنے متعدی بیماریوں اور کینسر کے حوالے سے وائرس(خاص طور پر ریٹرو وائرس) اور میزبان (جانور یا انسان) کے مابین تعلق پر کام کیا۔ وسیع پیمانے پر سامعین تک سائنسی تحقیق کو مئثر انداز میں بتانے کی ضرورت نے انکے سائنسی تحریر کے جذبے کو جنم دیا اور تب سے ڈاکٹر ماریہ سائنس پر لکھ رہی ہیں۔ فی الحال وہ ایک سائنسی مصنف کی حیثیت سے، عالمی سطح پر اینٹی باڈی پروٹین سیکوئنسنگ ٹیم “ریپڈ نوور” کے لئے کام کرتی ہیں۔ ماریہ اپنا فارغ وقت STEM موضوعات کو عوام میں قابلِ رسائی بنانے کے لیے صرف کرتی ہیں۔
ڈاکٹر زرین فاطمہ نے اپنی پی۔ایچ۔ڈی مالیکیولر بیالوجی/ وائرولوجی، سی۔ای۔ایم۔بی جامعہ پنجاب لاہور سے ڈاکٹر ادریس خان کی سرپرستی میں حاصل کی۔ آپ وائرس ، خاص طور پر مچھر سے پھیلنے والے وائرس کے ارتقاء اور پھیلاؤ پر تحقیق کرتی ہیں۔ ڈاکٹر زرین نے جنوری 2020 تک پاکستان میں بیالوجی کی اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر بھی ذمہ داری نبھائی ہے۔ ڈاکٹر زرین کا بیشتر کام ڈینگی وائرس پر ہے اور اب وہ ٹارونٹو میں رہائش پزیر ہیں۔ آپ کو جانوروں سے لگاؤ ہے اور اپنے فارغ وقت میں انسانی جذبات پر مبنی کہانیاں لکھتی ہیں۔

حوالہ جات

  • 1. Chen, H. et al. Clinical characteristics and intrauterine vertical transmission potential of COVID-19 infection in nine pregnant women: a retrospective review of medical records. Lancet 395, 809-815, doi:10.1016/S0140-6736(20)30360-3 (2020).
  • 2. Chen, L. et al. Clinical Characteristics of Pregnant Women with Covid-19 in Wuhan, China. N Engl J Med 382, e100, doi:10.1056/NEJMc2009226 (2020).
  • 3. Breslin, N. et al. COVID-19 infection among asymptomatic and symptomatic pregnant women: Two weeks of confirmed presentations to an affiliated pair of New York City hospitals. Am J Obstet Gynecol MFM, 100118, doi:10.1016/j.ajogmf.2020.100118 (2020).
  • 4. Chen, R. et al. Safety and efficacy of different anesthetic regimens for parturients with COVID-19 undergoing Cesarean delivery: a case series of 17 patients. Can J Anaesth 67, 655-663, doi:10.1007/s12630-020-01630-7 (2020).
  • 5. Chen, S. et al. [Pregnancy with new coronavirus infection: clinical characteristics and placental pathological analysis of three cases]. Zhonghua Bing Li Xue Za Zhi 49, 418-423, doi:10.3760/cma.j.cn112151-20200225-00138 (2020).
  • 6. Chen, Y. et al. Infants Born to Mothers With a New Coronavirus (COVID-19). Front Pediatr 8, 104, doi:10.3389/fped.2020.00104 (2020).
  • 7. Khan, S. et al. Impact of COVID-19 infection on pregnancy outcomes and the risk of maternal-to-neonatal intrapartum transmission of COVID-19 during natural birth. Infect Control Hosp Epidemiol 41, 748-750, doi:10.1017/ice.2020.84 (2020).
  • 8. Vintzileos, W. S. et al. Screening all pregnant women admitted to labor and delivery for the virus responsible for coronavirus disease 2019. Am J Obstet Gynecol, doi:10.1016/j.ajog.2020.04.024 (2020).
  • 9. Wu, Y. et al. Coronavirus disease 2019 among pregnant Chinese women: case series data on the safety of vaginal birth and breastfeeding. BJOG, doi:10.1111/1471-0528.16276 (2020).
  • 10. Ellington, S. et al. Characteristics of Women of Reproductive Age with Laboratory-Confirmed SARS-CoV-2 Infection by Pregnancy Status - United States, January 22-June 7, 2020. Report No. 1545-861X (Electronic) 0149-2195 (Linking), 769-775 (Centres for Disease Control, Morbidity and Mortality Weekly Report (MMWR), 2020).
  • 11. Quality, A. f. H. R. a. Disparities in Health Care Quality among Racial and Ethnic Minority Groups: Selected Findings from the AHRQ 2010 NHQR and NHDR. (Rockville, MD, 2010).
  • 12. Hostetter, M. & Klein, S. In Focus: Reducing Racial Disparities in Health Care by Confronting Racism, (2018).
  • 13. Knight, M. et al. Characteristics and outcomes of pregnant women admitted to hospital with confirmed SARS-CoV-2 infection in UK: national population based cohort study. BMJ 369, m2107, doi:10.1136/bmj.m2107 (2020).
  • 14. Zhang, J., Wang, S. & Xue, Y. Fecal specimen diagnosis 2019 novel coronavirus-infected pneumonia. J Med Virol 92, 680-682, doi:10.1002/jmv.25742 (2020).
  • 15. Zhang, Y. et al. Isolation of 2019-nCoV from a Stool Specimen of a Laboratory-Confirmed Case of the Coronavirus Disease 2019 (COVID-19). China CDC Weekly 2, 123-124, doi:10.46234/ccdcw2020.033 (2020).
  • 16. Holshue, M. L. et al. First Case of 2019 Novel Coronavirus in the United States. N Engl J Med 382, 929-936, doi:10.1056/NEJMoa2001191 (2020).

زمرہ: صحت عامہ